عجب شادی کی گجب کہانی

ڈائوو بس تیز رفتاری سے ہائی وے پر دوڑ رہی تھی۔ بس کے اندر ایئر کنڈیشن کی ہلکی سی گھوں گھوں اور مسافروں کی آپس میں گفتگو کی ہلکی سی آواز گونج رہی تھی۔ کچھ مسافر اونگھ رہے تھے اور کچھ کھْڑکی کی شیشے سے باہر تیزی سے پیچھے کی طرف دوڑتے درختوں اور کھیت کھلیانوں کو دیکھ رہے تھے۔ پوری بس بھری ہو ئی تھی، میں اور ہماری بیگم ڈرايئور کے پیچھے والی دو سیٹیں چھوڑ کر بیٹھے ہوئے تھے۔۔ گزشتہ روز لاہور میں میری سالی کے سسر کا انتقال ہو گیا تھا اور ان ہی کے جنازے میں شرکت کے لئے ہم میاں بیوی کل دوپہر اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے۔ مغرب کے وقت تدفین سے فارغ ہو کر ہم نے رات لاہور میں ہی گزاری تھی اور آج صبح ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر کو ئی گیارہ بجے لاہور سے اسلام آباد کے لئے بس میں سوار ہوئے تھے۔۔میں اسلام آباد میں ایک سرکاری ملازم هوں اور سرکاری رہائش گاہ میں مقیم ہوں۔ تہمینہ میری بیوی شاید رات کو ٹھیک سے سو نہ سکی تھی اس لئے وہ اونگھ رہی تھی۔۔ اس کی اونگھ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وقت میری تمام تر توجہ بالکل سامنے اسٹاف سیٹ پر بیٹھی اس پری وش کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں جو ایک تقریبا” پینسٹھ سالہ بزرگ کے ساتھ بیْٹھی تھی۔۔آپ مجھ کو ئی ٹھرکی یا اوباش قسم کا انسان نہ جانئے گا۔ میری بیوی تہمینہ خاصی خوبصورت اور طرح دار عورت ہے۔ میں دو بچوں کا باپ ہوں اور آفس اور محلے میں میری ریپوٹیشن ایک شریف اور بردبار انسان کی ہے۔ لیکن کیا کیجئے کہ کبھی کبھی انسان کا دل نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ایسی کشش کا شکار ہو جاتا ہے کہ جس سے فرار ممكن نہیں ہوتا۔۔اس لڑکی کی عمر یہی کو ئی بیس اکیس سال ہوگی، انتہا ئی گھنے سیاہ بال کتابی چہرے کا ہالہ کئے ہوئے تھے۔۔ عارض کی لالی گویا قدرتی بلش آن کا کام دے رہی تھی۔ رو ئی رو ئی ، سو ئی سو ئی سی آنکھیں ، ان پر سیاہ گھنی پلکوں نے سایہ کیا ہوا تھا۔ ترشے ہوئے سرخ یاقوتی ہونٹ اور سبک سی ناک۔۔سر پر کریم کلر کا بڑاسا دوپٹہ ، مسٹرڈ کلر کی جدید تراش کی لمبی شرٹ، اور سفید چوڑی دار پاجامہ۔۔سڈول پنڈلیوں پر کسا کسا چوڑی دار گویا پنڈلیوں کی ساخت کی موزونیت اور رعنا ئی کا شاہکار تھا۔ لاکھ نظریں ہٹاتا تھا لیکن نگاھیں بار بار اس کے پاجامے کی چوڑیوں کی بھول بھلیوں میں گمشدہ ہو جاتی تھیں۔ ۔۔ نازک سفید پائوں گویا دو سفید کبوتر سیاہ نازک سی سینڈل میں جکڑےہوئے ہوں۔۔سلیقے سے پیڈی کیور کئے ناخنوں پر گہری عنابی چمکدار کیوٹیکس گویا کہ کسی قیمتی نیکلس کے سروں پر جڑے ہوئے یاقوت۔۔ وہ سر جھکائے دنیا و مافیہا سے گویا بے خبر اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔۔اس کے چہرے پر چھائی اک عجب سی سوگواری نے اس کی کشش میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھے انعام راجہ کے بنائے ہوئے سب رنگ ڈائجسٹ کے سرورق کی دوشیزائیں ياد آرہی تھیں۔ یہ مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ جن لوگوں نے ستر اور اسی کی دہائی کے سب رنگ کے سرورق دیکھے ہیں وہ یقینا” میرا مطلب سمجھ گئے ہونگے۔ ابھی میں اس کی پنڈلیوں پر کسی ہو ئی چوڑیوں میں ہی کھویا ہوا تھا کہ ایک زوردار ٹہوکا میری پسلیوں میں لگا اور میں ہڑبڑا کر سیدھا ہو گیا۔۔ تہمینہ مجھے غصه بھری نظروں سے گھور رہی تھی۔۔میں اس طرح رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بڑا خجل ہوا لیکن شکر ہے کہ بس میں ہونے کی وجہ سے تہمینہ نے ْصرف گھورنے پر ہی اکتفا کیا ۔۔

غالبا” سالٹ رینج کا علاقہ شروع ہو چکا تھا۔۔ بس کے آدھے سے زیادہ مسافر اونگھ رہے تھے۔۔ اچانک لڑکی کے ساتھ بیٹھے بزرگ اپنى سیٹ سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔۔ بڑے میاں نے ڈھیلا ڈھالا شلوار کرتا پہنا ہوا تھا، سر پر سواتی ٹوپی اور کاندھے پر ایک کھیس نما چادر۔۔ انہوں نے کھنکھار کر بس کے مسافروں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔۔کپکپاتی هو ئی آواز میں گویا ہوئے، ” بھائیو میرا نام محمد سعید اعوان ہے۔ ایبٹ آباد میں رہتا ہوں وہیں میرا آبا ئی مکان اور کپڑے کا کاروبار ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ کسی چیز کی کمی نہیں۔۔پھر لڑکی کی طرف اشارہ کر کے بولے کہ یہ میری بھتیجی ہے۔ اس کے والدین اس کی کم عمری میں ہی ایک حادثے کا شکار ہو کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ میں اور میری بیوی بے اولاد تھے تو ہم نے اس بچی کو بڑے لاڈ پیار سے پالا، بہترین تعلیم دلوا ئی۔۔ پچھلے سال میری بیوی بھی فوت ہو گئی۔ اب میرا ارادہ ہے کہ اس بچی کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہو کر اللہ کے گھر کا طواف کر آئوں کہ نہ جانے کب زندگی کی شام ہو جائے۔۔ لیکن نہ جانے کیا بدنصیبی اس بچی کے ساتھ جڑی ہے کہ اب تک تین رشتے آ چکے ہیں۔ تینوں مناسب تھے بات بھی پکی ہونے والی تھی لیکن عین وقت پر اللہ نے مدد کی اور پتہ چلا کہ ان تین رشتوں میں سے ایک تو پہلے سے شادی شدہ تھا۔۔ دوسرے نے اپنی تعلیم اور کاروبار کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔۔وہ صرف میرے کاروبار پر قبضہ کرنے کے لئے شادی کرنا چاہتا تھا۔تیسرا رشتہ لاہور سے آیا تھا۔ اسد نامی لڑکا مجھے معقول لگا۔ بینک میں مینیجر تھا۔ لڑکا معقول تھا اور اسی سلسلے میں ہم لاہور گئے تھے۔۔ میں نے اپنی بھتیجی کو بھی ساتھ لے لیا كہ اس بہانے لاہور کی سیر بھی کرلے گی اور میں زرا لڑکے کے بارے میں چھان پھٹک کرلوں گا . لڑکا مجھے معقول لگا، اس کے گھر والے بھی شریف اور مناسب محسوس ہوئے۔ گلبرگ میں دو کنال پر بنگلہ تھا۔بس زرا بہت ماڈرن اور فیشن ایبل قسم کے لوگ تھے۔ لیکن میں نے سوچا کہ میں بوڑھا پرانے وقتوں کا آدمی ہوں، میری بھتیجی پڑھی لکھی ہے اور وہ اس ماحول میں خود کو ڈھال لے گی۔ اور میں نے اپنی بھتیجی کی بات اس کے ساتھ پکی کردی، لیکن بدقسمتی نے یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا، مجھے ایک اجنبی نمبر سے فون آیا کہ بڑے صاحب آپ بہت نیک اور شریف آدمی لگتے ہیں۔ میں اسد کا قريبی شتہ دار ہوں۔۔آپ ان کے جھانسے میں نہ آئیں، یہ پورا خاندان انتہا ئی بدقماش ہے۔ اسی طرح خوبصورت لڑکیوں سے شادی کر کے ان کو اسٹیج اور فلم کی ڈانسر بنا دیتے ہیں اور ہا ئی کلاس لوگوں میں دھندا بھی کرواتے ہیں۔یہ ایسے ہی لوگوں کی تلاش میں رہتے هیں کہ جن کے آگے پیچھے کو ئی نہ ہو۔۔آپ فوری اپنی بھتیجی کو لے کر لاہور سے نکل لیں ورنہ یہ لوگ انتہا ئی اقدام سے بھی نہیں چوکیں گے۔۔ میں یہ سن کر سخت پریشان ہو گیا اور افرا تفری میں سامان سمیٹ كر هم بس میں سوار ھو گئے۔۔اب ہم واپس ایبٹ آباد جا رہے ہیں لیکن نه جانے کیوں اتنے سارے مسلمان بھائیوں کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور میں بے اختیار یہ سب آپ لوگوں کو بتانے پر مجبور ہو گیا کہ بانٹنے سے غم ہلکا ہوتا ہے۔ جب بڑے میاں یہ سب داستان سنا رہے تھے وہ لڑکی مزید چھو ئی مو ئی سی بن کر اپنے آپ کو دوپٹے میں چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کے چہرے پر کرب، غم اور ناگواری کے ملے جلے تاثرات تھے۔کچھ توقف کے بعد بڑے میاں گلوگیر آواز میں گویا ہوئے کہ آپ اتنے مسلمان بہن بیٹیوں والے اس بس میں سوار ہیں، بتائو میں کیا كروں؟ بھائیو میرے لئے دعا کرو کہ میں اس معصوم کے فرض سے سبکدوش ہو کر حج کی تمنا پوری کر سکوں۔سوچو اگر میں دنیا سے رخصت ہو گیا تو کون اس معصوم کی حفاظت کرے گا۔ دور دور تک کوئی رشتہ دار نہیں اور یہ معصوم زمانے کے سرد و گرم سے ناواقف ہے۔۔ یہ کہہ کر بڑے میاں اپنی سیٹ پر گردن جھکا کر بیٹھ گئے۔۔

پوری بس پر عجیب سکوت طاری ہو گیا۔سب ہی اس نازک سی معصوم لڑکی کے لئے دل میں ہمدردی محسوس کر رہے تھے۔ خاص طور پر مرد حضرات تو گویا دل ہی دل میں اس پری وش کے تمام غم اپنے ذمے لینے کو تیار تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ لوگوں کی پرواہ کئے بغیر اس نازک اندام کا سر اپنے کاندھے پر رکھ کر کہوں کہ آج اپنے سارے غم ان حسین آنکھوں سے بہا کر اپنا دل ہلکا کرلو کہ آج کے بعد میں تمہاری ان آنکھوں میں ایک بھی آنسو برداشت نہیں کرسکتا لیکن تہمینہ کی موجودگی میں اس حسرت کا غنچہ بن کِھلے ہی مرجھا گیا۔

ابھی بس کے مسافر آپس میں چہ مگوئیاں کر ہی رہے تھے کے درمیانی سیٹوں سے ایک ادھیڑ عمر کے صاحب اٹھے۔ درمیانہ قد، بھاری جسم، ، خشخشی ڈاڑھی۔ سلام کے بعد گویا ہوئے کہ میرا نام شیخ محمد یٰسین ہے۔ لاہور کا رہنے والا ہوں۔ گزشتہ چالیس سال سے میرا لاہور میں پرنٹنگ پریس کا کاروبار ہے۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک وزٹنگ کارڈ نکال کر کنڈکٹر کو بلایا اور کارڈ اس کو تھما کر بڑے میاں کو دینے کا اشارہ کیا۔۔بولے کی بڑے صاحب آپ میرا کارڈ دیکھ لیجئے اور جیسے چاہیں تسلی کرلیں۔ پھر اپنے برابر بیٹھے ایک چھبیس ستائیس سال کے انتہا ئی خوبرو نوجوان كی طرف اشارہ کرتے ہوے بولے کہ یہ مرا بیٹا شیخ فرحان یٰسین ہے۔ پندرہ دن پہلے ہی امریکہ سے آیا ہے۔ اس نے وہیں سے کیمیکل انجینیئرنگ میں ڈگری لی ہے اور وہیں ملازمت بھی کرتا ہے۔ لیکن مجھے فخر ہے کہ اس كی سعادت مندی اور فرمانبرداری میں کو ئی کمی نہیں آ ئی۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ جب میں نے اس کی شادی اپنی بھتیجی سے کرنے كا ارادہ کیا تو یہ کو ئی چوں چرا کے بغیر میرے کہنے پر پاکستان آگیا ہے۔ یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کی والدہ کا بھی دو سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ میرا چھوٹا بھائ پنڈی میں رہتا ہے اور ہم آج وہیں اس کی منگنی کی رسم ادا کرنے جا رہے ہیں۔ پھر اپنی سیٹ پر برابر میں رکھے ایک خوبصورتی سے سجے ٹوکرے کی طرف اشارہ کر کے بولے کہ بطور خاص لاہور کی ایک بہت مشہور اور پرانی مٹھا ئی کی دکان سے یہ اسپیشل لڈو بنوائے تھے کہ منگنی میں لوگوں کا منہ لاہور کی اس سوغات سے میٹھا کرائیں گے۔ لیکن اس بچی کی درد بھری داستان سن کر میرا دل بھر آیا ہے۔ میری بھتیجی ماشاللہ ماں باپ اور بہن بھائیوں والی ہے۔ اللہ اس کو اس سے بہتر رشتہ عطا فرمائے گا انشاللہ۔۔اگر آپ کو مناسب لگے تو میرا بیٹا آپ کی فرزندی میں آنے کے لئے حاضر ہے۔اب سب کی نظریں لڑکے پر جم گئیں۔ لڑکا واقعی خوبرو اور گورا چٹا تھا۔ جدید تراش خراش کی پینٹ شرٹ پہنے، سلیقے سے سنورے بال۔ شخصیت میں ایک نفاست اور وضعداری۔۔بلاشبہ وہ ایک شریف خاندان کا مہذب اور پڑھا لکھا نوجوان لگ رہا تھا۔ سب کوہی لڑکا پہلی نظر میں جچ گیا۔

ابھی وہ بڑے میاں شش و پنج کی کیفیت میں ہی تھے کہ اگلی سیٹ سے ایک مولوی صاحب اٹھے۔ سلیقے سے ترشی شرعی ڈاڑھی، سر پر قراقلی، بادامی شلوار قمیض پر سیاہ واسکٹ، ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تسبیح، سلام، حمد و ثنا اور درود کے بعد گویا ہوئے کہ میں لاہور کی فلاں مسجد کا پیش امام اور خطیب ہوں۔ نکاح خواں بھی ہوں اور اب تک بے شمار نکاح پڑھا چکا ہوں۔ بھائیو بے شک اللہ تعالیٰ ہی مسبب الاسباب ہے۔ لیکن آج میرا ایمان اس ذات پاک پر مزید پختہ ہو گیا ہے۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آواز شدت جزبات وہ جزبہ ایمانی سے گلوگیر ہو گئی۔۔۔ ” سبحان اللہ کہ جب وہ کسی کام كو کرنے کا ارادہ فرمالے تو کیسے تمام اسباب کو گویا ایک جگہ اکٹھا کر دیتا ہے۔ اب دیکھئے کہ میں مری جا رہا ہوں۔ کل میری بھانجی کی شادی ہے۔ اب جب بھلا ماموں نکاح خواں ہو تو کو ئی اور نکاح کیسے پڑھا سکتا ہے” ؟ ایک چرمی تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، ” اسی لئے یہ نکاح کا رجسٹر ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔ بیوی بچے تو ایک ہفتہ پہلے ہی مری چلے گئے تھے لیکن میں اپنی مصروفیات کی بنا پر نہ جا سکا۔شاید خدا نےآج کا دن ہی رکھا تھا”۔ پھر بڑے میاں سے مخاطب ہو کر بولے ، “حضرت میں جناب شیخ محمد یٰسین صاحب کو غائبانہ طور پر جانتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ یہ واقعی پرنٹنگ پریس کے مالک ہیں اور لاہور کے بہت پرانے رہنے والے ہیں۔ اگر میری مانیں تو نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ دلہا بھی ہے، دلہن بھی ہے اور نکاح خوان بھی۔ یہ تمام اسباب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خدا بھی اس نیک کام کو فوری کرنا چاہتا ہے۔ آپ بٹیا سے مشورہ کر لیجئے کہ لڑکی کی مرضی کو شریعت میں اہمیت حاصل ہے۔ اگر بٹیا کو قبول ہے تو ابھی نکاح پڑھا دیتے ہیں”۔ پوری بس کے مسافر سفر بھول کر اس عجیب انہونی کو دیکھ رہے تھے۔کچھ سبحان اللہ کہ کر خدا کی قدرت پر حیرت زدہ تھے۔ بڑےمیاں نے کچھ دیر لڑکی سے کھسر پھسر کی جو اب بالکل ہی سمٹ کر گٹھری سی بن گئی تھی۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد بڑے میاں نے گویا ایک دھماکہ کیا کی لڑکی راضی ہے۔ کہتی ے کہ جو آپ بہتر سمجھتے ہیں وہ کیجئے۔ یہ سنتے ہی گویا بس میں مبارک سلامت کا غلغلہ مچ گیا۔ جو مسافر کچھ دير پہلے اونگھ رہے تھے وہ چوکس بیٹھے یہ ساری کاروا ئی دیکھ رہے تھے۔ ایک عجیب سی مسرت ہر شخص پر چها ئی تھی گویا پوری بس ایک بارات بن گئی تھی۔ ڈرائيور کے پیچھے والی سیٹ خالی کروا کر وہاں شیخ صاحب اور ان کے بیٹے کو بٹھایا گیا۔ کونے پر مولوی صاحب براجمان ہوئے۔۔ رجسٹر کھول کر ضروری کوائف کی خانہ پری کی۔ اسی دوران لڑکی کا نام مہوش پتہ چلا۔ بے شک وہ مہوش کہلائے جانے کے لائق ہی تھی۔ بس کے مسافروں میں سے ہی چار گواہ بھی بن گئے جن میں یہ خاکسار بھی شامل تھا۔ نکاح کے بعد دعا ہو ئی۔ شیخ صاحب نے اپنے بیٹے کو گلے لگا کر اس کا ماتھا چوما۔ سعید اعوان صاحب نے بھی فرحان کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔ مولوی صاحب کے ہاتھوں کو چوما اور اپنی جیب سے ہزار ہزار کے کو ئی دس کے قریب نوٹ نکال كر مولوی صاحب کو پیش کئے جو لینے میں مولوی صاحب نے پس و پیش کی تو زبردستی ان کی واسکٹ کی جیب میں ٹھونس دئے۔

شیخ صاحب نے آگے بڑھ کر چھو ئی مو ئی بنی مہوش کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگی۔ شیخ صاحب بولے، ” نہ بیٹا نہ، اب میں ہوں نا تیرا باپ۔۔ تجھے اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر رکھوں گا۔۔ پھر پیار سے ڈپٹ کر اپنے بیٹے سے بولے ، اوئے فرحان، میری بٹیا کو اگر کبھی تو نے تنگ کیا تو میں تیرے ساتھ کو ئی نرمی نہیں برتوں گا، اب میری مہوش بٹیا پہلے اور تو بعد میں۔”۔۔ فرحان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا – واقعی انتہا ئی فرمانبردار اور با ادب نوجوان تھا۔ اس کے بعد شیخ صاحب نے انتہا ئی مشکور لہجے ميں پوری بس کے مسافروں کا شکریہ ادا کیا اور کنڈکٹر کو لڈوئوں کا ٹوکرا لانے كو کہا۔ ٹوکرے کی رنگ برنگی پنی والی پیکنگ کھلتے ہی پوری بس میں اصلی گھی اور ہلکے بھنے بیسن کہ اشتہا انگیز سوندھی مہک پھیل گئی۔ ویسے بھی دوپہر ہو چلی تھی اور دوران سفر بھوک بهى کچھ زیادہ ہی چمکتی ہے۔ شیخ صاحب نے بس کے ایک ایک مسافر کو اپنے ہاتھوں سے لڈو مرحمت فرمايا۔ ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ سونھ رب دی دانے دانے تے کھان والے دا نام ہوندا اے۔۔بھاگاں والیو اے سوْغات تواڈے نصیب دی سی۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر نے فرمائش کر کے دو دو لڈو لئے۔ لڈو واقعی انتہائی عمدہ تھے۔شیخ صاحب کی لاہورى سوغات واقعی اسپیشل کہلانے کے لائق تھی۔میں نے بے شمار مٹھا ئی کی دکانوں کی مٹھا ئی کھا ئی ہے ليکن بلاشبہ ایسا ذائقہ دار لڈو کبھی نہ چکھا تھا۔

یہ سب ہونے کے بعد گویا پوری بس کے مسافر ایک اضطرابی کیفیت سے نکل کر پر سکون ہو گئے تھے جیسے کہ گویا ایک بہت بڑا فرض ادا ہو گیا ہو۔ ایک بوجھ اتر گیا ہو۔۔۔ اسی دوران نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ خواب میں بھی وہ پری وش مہوش میرے حواس پر سوار تھی۔ دیکھتا ہوں کہ مہوش کا نکاح فرحان سے نہیں بلکہ مجھ سے ہوا ہے اور ہم ہنی مون کے لئے کالام اور صوات كی حسین وادیوں کی سير کو نکل گئے ہیں۔ وہیں ایک آبشار کے کنارے چشمے کے پانی میں پائوں ڈالے میں اور مہوش ایک پتھر پر بیٹھے ہیں۔ مہوش کا سر میرے کاندھے پر ركھا ہے اور میں اس کی گھنی زلفوں کی مہک سے مدہوش پانی مں ڈوبے ہوئے دو نازک سفید کبوتروں کو تک رہا ہوں کہ مہوش نے شرارت سے ایک چلو میں پانی بهر کر میرے چہرے پر اچھال دیا۔ سرد پانی چہرے پر پڑا تو میں ہڑبڑا کر جاگ گیا۔ کچھ ہوش بحال ہوئے تودیکھا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس سپاہی پانی کی بوتل سے میرے منہ پر چھینٹے مار رہا تھا۔ ارد گرد نگاہ دوْڑا ئی تو دیکھا کہ چار پانچ پولیس والے مسافروں کے منہ پر پانی کے چھینٹے مار رہے تھے۔ کچھ مسافر ہوش میں آچکے تھے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گویا خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ خواب نہیں هے۔ تہمینہ بھی ہوش میں آچکی تھی لیکن بے جان سی سیٹ پر لیٹی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو بس ہا ئی وے پر نہیں بلکہ ایک سپاٹ کچی جگہ پر کچھ چٹانوں کے درمیان کھڑی تھی۔ دور مشرق میں سورج کا لال گولہ گویا ڈوبنے کی تیاری كر رہا تھا۔

پوری بس کے مسافروں کے قیمتی سامان کا صفایا کر دیا گیا تھا۔ موبائل فونز، گھڑیاں، بٹوے، خواتین کے زیورات، کنڈکٹر اور ڈرائیور کی ساری کمائ، جو کہ دونوں اب تک بے ہوش تھے ۔ انہیں ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال بھیجا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ہوش آنے پر ڈرائیور اور کنڈکٹر بار بار یہی کہتے تھے ،” چہ قسم خدا ، جو امارے کو وہ خدائی خوار ایک باری مل جاوے تو اتنا ہی سائز کا دو دو نسوار کا لڈو ام ان کو کلا کر پوچے گا کہ ابی بتائو کس میں زیادہ نشہ ہے؟”اس کے علاوہ وہ مہوش اور فرحان کو کبھی خشبو لگا کر پشاور آنے کی دعوت بھی دے رہے تھے تاکہ بیک وقت دونوں سے اپنے طریقے اور روایات کے مطابق حساب چکتا کرسکیں۔ مسافروں کے سوٹ کیس اور اٹیچیوں کے تالے توڑ کر بھی جو مال ہاتھ لگا وہ اڑا لیا گیا تھا۔ بس ہا ئی وے سے کو ئی دو کلو میٹر اندر چٹانوں کی آڑ میں لا کر روکی گئی تھی اور بولیس کے مطابق بس کے پیچھے دو کاریں بھی تھیں جن کے ٹائروں کے نشانات بتاتے تھے کہ وہ واپس ہا ئی وے کی جانب روانہ ہو گئی تھیں۔ قریبی گائوں کے کچھ چرواہوں نے گھروں کو لوٹتے ہوئے یہ بے آسرا بس ویرانے میں کھڑی دیکھی تو اس کی طرف آئے اور بے ہوش سافروں کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔۔ بس کے تمام مسافر موجود تھے علاوہ پانچ افراد کے۔۔ وہ پانچ افراد بھلا کون ہو سکتے تھے آپ پہچان ہی گئے ہونگے۔

اس کے بعد وہی معمول کی کاروا ئی، پولیس، تھانہ، رپورٹ وغیرہ۔ اس کے بعد ہم کو مختلف بسوں میں منزل کی طرف روانہ کر دیا گیا۔آج اس واقعے کو چھ ماہ ہو چکے ہیں اور ہم اس واقعے کو تقریبا” فراموش کرچکے ہیں لیکن سچی سچی آپ کو ایک بات بتائوں، کبھی کبھی مہوش بہت یاد آتی ہے۔

Share it!

Share on facebook
Share on whatsapp
Share on twitter
Share on email
Share on reddit